ابنا: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے لندن میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ لاوروف نے کہا کہ بین عالمی برادری کو کچھ ایسا کرنا چاہئے کہ یوکرین کے عوام آئینی اصلاحات کے بارے میں بات چیت کریں .انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کریمیا کی پارلیمنٹ ریفرنڈم کا جو فیصلہ کیا وہ کس وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی انتظامیہ نے طویل عرصے تک جو اقدامات کئے اور جس کی وجہ سے یوکرین کا بحران اتنا بڑھ گیا اسی وجہ سے کریمیا کی پارلیمنٹ نے ریفرنڈم کا فیصلہ کیا۔سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس نے یوکرین جنوب مشرقی علاقوں میں دراندازی کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے اور نہ ہی وہ ایسی منصوبہ بندی کر سکتا ہے ۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ كريميا میں قوانین کی خلاف ورزی اس لئےنہیں ہوئی کیونکہ سیکورٹی کی برقراری کے لئے وقت پر قدم اٹھا لیا گیا اور سیکورٹی اہلکاروں اور رضاکار فورس نے وہ سب کچھ نہیں ہونے دیا ، جو كي ایف میں ہو چکا ہے .انہوں نے کہا کہ روس اور مغربی ممالک میں یوکرین کی صورتحال کو لے کر اس سوال پر ابھی بھی اختلافات پایا جاتا ہے کہ دوسرے ممالک کو بحران کے حل کے لئے کیا عملی اقدامات کرنے چاہئے۔ سرگئی لاوروف نے کہا امریکی وزیر خارجہ سے ہونے والی ملاقات فائدہ مند رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ روس، 16 مارچ کے ریفرنڈم میں كريميا کے عوام کی رائے کا احترام کرے گا۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس نے مغربی ممالک کے سامنے یوکرین کےبحران کے حل کے لئے اپنی تجویز پیش کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز کے ذریعے روس نے یہ بتایا ہے کہ یوکرین کے بحران کے حل کے لئے بین الاقوامی سطح پر اسے کس طرح حمایت کی جانی چاہئے ۔......./169
14 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 513993
روس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی صورتحال پر مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے .